یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس موجود پیٹریاٹ میزائل سسٹم کا صرف 10 فیصد حصہ اگر یوکرین کو فراہم کر دیا جائے تو وہ روس کے تمام بیلسٹک میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو شدید فضائی دفاعی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک بھر میں شہری آبادی اور اہم تنصیبات روسی حملوں کی زد میں ہیں۔
پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی اہمیت
صدر زیلنسکی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ پیٹریاٹ سسٹم کی کمی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے روسی فورسز یوکرین کے دفاعی نظام میں موجود خلا کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی ذخیرے کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی یوکرین کے لیے ایک ایسا حفاظتی حصار بن سکتا ہے جو روسی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے نئے آثار بھی نمودار ہوئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو کسی بھی قسم کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی توانائی سسٹمز اور انٹرنیٹ سے منسلک عالمی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیں گے۔ یہ دھمکی عالمی سطح پر سیکیورٹی کے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
پاکستان پر اثرات
پاکستان کے قارئین کے لیے یہ پیش رفت براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ مشرقی یورپ میں جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی ہے۔ جب عالمی طاقتیں اس طرح کے تنازعات میں الجھتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے درآمدی بل اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔
مزید برآں، ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید دور میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بھی جنگ کا ایک اہم میدان بن چکی ہے۔ اگر ایسا کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور مواصلاتی رابطوں پر انتہائی سنگین ہوں گے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
مستقبل قریب میں ہمیں ان نکات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے:
- یوکرین کو مزید فوجی امداد کی فراہمی کے حوالے سے امریکی کانگریس کے فیصلے کیا ہوں گے۔
- بین الاقوامی توانائی ایجنسیوں کی جانب سے علاقائی توانائی گرڈز کی حفاظت سے متعلق بیانات۔
- تہران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی پیش رفت۔
فی الحال، پوری دنیا ایک ہائی الرٹ کی کیفیت میں ہے۔ پیٹریاٹ میزائل سسٹم جیسی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا معاملہ آنے والے سفارتی اجلاسوں میں مرکزی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز بھی ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملکی معیشت اور علاقائی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
