ضیاء الدین یونیورسٹی نے حال ہی میں کراچی میں ایک اہم نشست کا انعقاد کیا جس کا مقصد jinnah’s vision for emerging leaders پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس تقریب میں ماہرین تعلیم، طلباء اور دانشوروں نے شرکت کی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ بانی پاکستان کے اصول آج کے دور میں طلباء کے لیے کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔
قائد اعظم کے ویژن کو سمجھنا
مذاکرے کا مرکزی نقطہ قائد اعظم کے نظم و ضبط، اتحاد اور ایمان کے اصولوں کو جدید نصاب میں شامل کرنا تھا۔ وائس چانسلر ضیاء الدین یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عرفان حیدر اور دیگر اساتذہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز کے لیے دیانتداری اور فکری مہارت پر مبنی قیادت کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعلیمی ادارے کس طرح طلباء میں تنقیدی سوچ کو فروغ دے سکتے ہیں۔
- قومی ترقی کے لیے تعلیمی فضیلت پر توجہ۔
- یونیورسٹی کے طلباء میں سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا۔
- تاریخی نظریات اور جدید پیشہ ورانہ تقاضوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنا۔
آج کے طلباء کے لیے اس کے معنی
شریک طلباء کے لیے اس مکالمے نے ایک روڈ میپ فراہم کیا کہ کس طرح اپنے ذاتی کیریئر کے اہداف کو ملکی مفادات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ ابھرتے ہوئے لیڈروں کو اخلاقی فیصلوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ تحقیق اور کمیونٹی سروس میں فعال کردار ادا کر کے طلباء ملک کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
آگے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایک طالب علم ہیں اور ان اقدار کو اپنانا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی کے آئندہ پروگراموں میں شرکت کریں۔ ضیاء الدین یونیورسٹی اپنی ویب سائٹ zu.edu.pk پر سیمینارز اور ورکشاپس کے بارے میں معلومات اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے۔ ان نشستوں میں شرکت کر کے آپ ان اساتذہ اور ماہرین سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں جو ان نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے آفیشل اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ آپ اگلی نشست کا حصہ بن سکیں۔
