وفاقی حکومت نے ملک بھر کے میڈیا ورکرز کے حقوق اور تنخواہوں کے تنازعات حل کرنے کے لیے زل ہما کو نیا آئی ٹی این ای چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے۔ تین سالہ مدت پر مشتمل یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی میڈیا انڈسٹری شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور اخبارات سے وابستہ افراد اکثر تنخواہوں کی کٹائی، تاخیر اور نوکریوں سے غیر قانونی برخاستگی کا سامنا کرتے ہیں۔
آئی ٹی این ای کا منصب اور ذمہ داریاں
نفاذِ حقوقِ کارکنانِ اخبارات یعنی آئی ٹی این ای ایک ایسا نیم عدالتی ادارہ ہے جو میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ اور کارکنوں کے مابین تنازعات نمٹانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اگر کوئی اخبار یا پبلیکیشن ہاؤس سرکاری تنخواہی اسکیل یا ویج بورڈ ایوارڈ پر عمل درآمد سے انکار کرے، تو ملازمین اس فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے ہزاروں صحافیوں کے لیے اس ادارے کی فعال حیثیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
- اخبار مالکان اور میڈیا ورکرز کے تنازعات کا تصفیہ
- سرکاری ویج بورڈ ایوارڈز پر عمل درآمد کو یقینی بنانا
- غیر قانونی برطرفیوں اور روکی گئی تنخواہوں کی شکایات سننا
نئے سربراہ کو درپیش فوری چیلنجز
ٹریبونل کی نئی سربراہ کو سب سے پہلے ان پرانے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا جو کئی بڑے میڈیا گروپس کے خلاف طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔ بہت سے علاقائی رپورٹرز اور کیمرہ مین بغیر کسی باضابطہ معاہدے یا ہیلتھ انشورنس کے کام کر رہے ہیں، جس سے معاشی بحران کے دوران ان کے ملازمت کے تحفظ کا مسئلہ سنگین ہو جاتا ہے۔ میڈیا مالکان کو قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانا نئی انتظامیہ کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا تعلق میڈیا سے ہے اور آپ کو تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر یا غیر قانونی برطرفی کا سامنا ہے، تو اپنے تمام تقرر نامے، تنخواہ کی سلپس اور شکایات کے تحریری ثبوت محفوظ کر لیں۔ مقامی پریس کلب کی یونینز یا لیبر یونینز سے رابطہ کر کے ٹریبونل میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کی تیاری کریں۔ قانونی چارہ جوئی کے لیے مکمل دستاویزی ثبوت سب سے بڑا ہتھیار ہوتے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے ہفتوں میں اسلام آباد سے جاری ہونے والے انتظامی فیصلوں اور پرانے مقدمات کی سماعت کے شیڈول پر نظر رکھیں۔ نئی قیادت کی طرف سے اٹھائے جانے والے ابتدائی اقدامات سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اس سال میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے کتنی سختی کی جائے گی۔
