زمبابوے نے ایک تاریخی عدالت میں چیلنج کے بعد اپنے انٹر سیکس قوانین کا باضابطہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جس سے شہریوں کے لیے قانونی شناخت اور بنیادی تحفظات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ جنوبی افریقی ملک کا یہ قدم انسانی حقوق کے کارکنوں اور متاثرہ افراد کی جانب سے سرکاری دستاویزات میں امتیازی سلوک کے بغیر حیاتیاتی حقیقت کو تسلیم کرنے کے مطالبات کا براہ راست نتیجہ ہے۔ برسوں سے، ملک میں انٹر سیکس افراد کو انتظامی مشکلات، سماجی بدنامی اور سرکاری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ موجودہ سول رجسٹری کے نظام پیدائش کے وقت غیر بائنری حیاتیاتی خصلتوں کو درج کرنے سے قاصر تھے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی کا یہ رخ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے شناختی دستاویزات کو کیسے سنبھالتے ہیں۔ اگرچہ وزارت انصاف کی طرف سے مخصوص قانون سازی کے نظام الاعمل اور حتمی مسودے کی تر ترمیمات کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے، لیکن حکام نے اشارہ دیا ہے کہ طبی ماہرین، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع مشاورت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ اگر آپ عالمی انسانی حقوق کے رجحانات کا جائزہ لیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ریاستی شناخت ہی وہ بنیادی رکاوٹ ہے جو انٹر سیکس افراد کو تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور باضابطہ ملازمتوں تک رسائی سے روکتی ہے۔
زمبابوے کے انٹر سیکس قوانین کے جائزے کا پس منظر
زمبابوے کے انٹر سیکس قوانین میں اصلاحات کا یہ اقدام ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں دائر کی گئی ایک اہم درخواست کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں سائلین نے موقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ رجسٹریشن کے قوانین مساوات اور انسانی وقار کی آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ابتدائی سماعتوں کے دوران ریاستی وکلا نے موجودہ قانونی ڈھانچے میں موجود خامیوں کا اعتراف کیا، جس کے بعد حکومت نے پرانے قانونی حوالوں کا دفاع کرنے کے بجائے پالیسی میں تبدیلی لانے کا عہد کیا۔ اس عدالتی مداخلت نے ان انتظامی اداروں کو حرکت میں لا دیا ہے جو پہلے پیدائش اور بالغ ہونے والے انٹر سیکس افراد کو درپیش دستاویزات کے مسائل کو نظر انداز کر رہے تھے۔
علاقائی پیش رفت پر نظر رکھنے والے شہری اور قانونی مبصرین نوٹ کرتے ہیں کہ اسی طرح کے قانونی چیلنجوں نے کامن ویلتھ کے کئی دیگر ممالک میں بھی عدالتی رویوں کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا 2018 کے ٹرانسجینڈر پرسنز پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ کے تحت اپنا الگ قانونی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن درست حیاتیاتی اور قانونی درجہ بندی کی جدوجہد آج بھی ایک مشترکہ عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں سول رجسٹری کے ادارے اب بھی خاندانوں کو پیدائش کے وقت سخت بائنری جماعت بندی پر مجبور کرتے ہیں، جس سے زندگی بھر کے قانونی خطرات جنم لیتے ہیں۔
اصلاحاتی عمل میں آگے کیا ہوگا
مختلف وزارتوں کو پیدائش اور اموات کے رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم ابھی تک نفاذ کی کوئی حتمی تاریخ سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی ہے۔ ہرارے میں سول سوسائٹی کے گروپس شفاف شیڈول کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسودہ قانون میں اصلاحاتی سرجری کے تحفظات، غیر جبری طبی پروٹوکول اور قومی شناختی کارڈز پر صنفی خانے کی تبدیلی کے آسان طریقہ کار شامل کیے جائیں۔ آپ زمبابوے کی جوڈیشل سروس کمیشن کی ویب سائٹ یا مقامی قانونی امدادی پورٹلز کے ذریعے سرکاری اعلانات پر نظر رکھ سکتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عوامی مسودے کی دستاویزات تبصرے کے لیے کب جاری کی جائیں گی۔
بین الاقوامی مبصرین اور مقامی کارکنوں دونوں کے لیے، فوری اگلا مرحلہ یہ دیکھنا ہے کہ پارلیمنٹ مجوزہ قانونی ترامیم کو کیسے سنبھالتی ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ قانونی اصلاحات دیگر ممالک کے لیے ایک طاقتور مثال بن سکتی ہیں جو پرانے سول رجسٹریشن قوانین سے نبرد آزما ہیں۔ عدالتی اعتراف سے لے کر عملی انتظامی اصلاحات تک کا یہ سفر بالآخر اپنی سرحدوں کے اندر پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اصل امتحان ہوگا۔
