وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے نئی کنٹریبیوٹری پینشن اسکیم کو فعال کرنے کی غرض سے باضابطہ طور پر 16 اثاثہ جات کے نگران اداروں (فنڈ مینیجرز) کے ساتھ معاہدے طے کر لیے ہیں۔ اگر آپ کسی سرکاری محکمے میں ملازم ہیں تو یہ تبدیلی آپ کی ریٹائرمنٹ کی بچت، موت اور معذوری کے رسک کور کو براہ راست متاثر کرے گی۔ اسلام آباد میں حکام اس اسکیم کے نفاذ اور نگرانی میں مدد کے لیے ایک خصوصی نان بینکنگ مالیاتی کمپنی بھی قائم کر رہے ہیں۔ ان نئے کارپوریٹ شراکت داروں کے تحت اپنی ریٹائرمنٹ کی رقم کو سنبھالنے اور اس کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کار جاننا آپ کے لیے ضروری ہے۔ یہاں اس بات کی عملی رہنمائی دی گئی ہے کہ کون اس اسکیم کے لیے اہل ہے اور آپ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔
پینشن فنڈ مینیجرز کی اسکیم کے لیے کون اہل ہے؟
پینشن کے اس نئے ماڈل کی طرف منتقلی کا اطلاق بنیادی طور پر نئے آنے والے سرکاری ملازمین اور موجودہ سول سرونٹس کے مخصوص درجوں پر ہوتا ہے، جو وفاقی اور صوبائی سروس کے قواعد پر منحصر ہے۔ منتخب کردہ 16 فنڈ مینیجرز ہر ایک علیحدہ پینشن فنڈ قائم کریں گے جو ملازمین کی بچت کو اکٹھا کرکے محفوظ طریقے سے سرمایہ کاری کرے گا۔ آپ اس وقت اہل ہیں جب آپ کا محکمہ ان مطلع شدہ سرکاری اداروں میں آتا ہے جو روایتی اور بوجھ بن جانے والے مالیاتی پینشن کے نظام سے ہٹ رہے ہیں۔ کنٹریکٹ ملازمین اور خود مختار ادارے بھی جو اس فریم ورک کو اپنا رہے ہیں، ان فنڈز میں منتقل ہوں گے۔ اپنے محکمے کے اکاؤنٹس آفس یا ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس سے رابطہ کرکے تصدیق کریں کہ آپ کا کیڈر اس ابتدائی مرحلے میں شامل ہے یا نہیں۔
کون سے فوائد اور رسک کور شامل ہیں؟
روایتی یکمشت ادائیگیوں کے برعکس جو مکمل طور پر قومی خزانے پر انحصار کرتی تھیں، یہ فنڈز باقاعدہ ماہانہ تعاون پر مبنی ہیں جو آپ اور آپ کے محکمے کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں۔ دستخط شدہ معاہدوں کے تحت لازم کیا گیا ہے کہ ہر شریک فنڈ مینیجر ملازمین کے لیے مالی تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہو۔ ان میں ملازمین کے لیے موت اور معذوری کا رسک کور بھی شامل ہے تاکہ دورانِ ملازمت کسی حادثے کی صورت میں آپ کے اہل خانہ محفوظ رہیں۔ آپ کی ریٹائرمنٹ کی رقم اسٹاکس، سرکاری بانڈز اور فکسڈ انکم کے شعبوں میں انویسٹمنٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع پر بڑھے گی۔ مرکزی نان بینکنگ مالیاتی کمپنی کا ڈیش بورڈ لانچ ہونے کے بعد آپ ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے اپنا بیلنس دیکھ سکیں گے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اپنے سروس ریکارڈ اور ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کو نئے نظام میں منتقل کرنے کے لیے آپ کو خود فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انتظامی تاخیر سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- اپنے محکمے کے ہیومن ریسورس یا اکاؤنٹس کے شعبے میں جائیں اور اپنی پینشن اسکیم کی کیٹیگری معلوم کریں۔
- فنانس ڈویژن کی جانب سے منظور شدہ 16 فنڈ مینیجرز کی فہرست کا جائزہ لیں تاکہ ان کی کارکردگی کا اندازہ ہو۔
- اس بات کی تصدیق کریں کہ فنڈ کے لیے آپ کی ماہانہ تنخواہ سے ہونے والی کٹوتی تنخواہ کی پرچی میں درست طریقے سے درج ہو رہی ہے۔
- محکمے کے ساتھ مسائل سے بچنے کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ، نامزد افراد کی تفصیلات اور بینک اکاؤنٹ اپ ڈیٹ رکھیں۔
آنے والے مہینوں میں کن چیزوں کا خیال رکھیں؟
اس کا نفاذ اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام وزارتوں اور منسلک محکموں میں مرحلہ وار ہوگا۔ نئی قائم ہونے والی نان بینکنگ مالیاتی کمپنی کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھیں جو اس نظام کی نگرانی اور شکایات کا ازالہ کرے گی۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات پر کڑی نظر رکھیں کہ یہ 16 نجی فنڈ مینیجرز مہنگائی کے تناسب سے کیسا منافع دیتے ہیں۔ آپ کی حتمی رقم کی واپسی کا دار و مدار دانشمندانہ سرمایہ کاری پر ہے، اس لیے فنانس ڈویژن کی پالیسی اپ ڈیٹس سے آگاہ رہنا ہر سرکاری ملازم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
